بنگلورو،13؍ فروری(ایس او نیوز ) دسویں جماعت( ایس ایس ایل سی ) اور پی یو سی کے پرچے کسی بھی صورت میں افشا نہیں ہوں گے۔ اس کے لئے مناسب اقدامات کئے گئے ہیں۔ ریاستی وزیر برائے پرائمری و سکینڈری تعلیم تنویر سیٹھ نے ریاستی اسمبلی کو یہ یقین دلایا ۔ تعلیم میں ترمیمی بل ایوان میں پیش کرنے کے بعد اس پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے تنویر سیٹھ نے ایوان کو بتایا کہ اس سال سوالات کے پرچوں کے افشا ہونے کے واقعات کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔ عام طور پر ایس ایس ایل سی اور پی یو سی کے سوالات کے پرچے امتحانی مراکز کو جاری کئے جانے سے قبل سرکاری ٹریژری میں رکھے جاتے ہیں اب اس نظام کو بدل دیا گیا ہے۔ پرچوں کے لیک ہونے کی روک تھام کے لئے جس مقام پر یہ پرچھے رکھے جاتے ہیں وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کے علاوہ جہاں پرچے ہوتے ہیں وہاں داخل ہونے کے لئے بیو میٹرک کا بھی انتظام کیا گیا ہے جس افسر کی نگرانی اور ذمہ داری میں یہ پرچے رکھے جاتے ہیں صدر دروازہ صرف اس افسر کے بیومیٹرک کے ذریعہ کھلتا ہے اس مرتبہ پرچوں کی حفاظت کے لئے بینک لاکرس کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ پرچوں کے افشا ہونے کو روکنے کے لئے کئی ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں انہوں نے کو بتایا کہ پرچے امتحان گاہ پہنچنے کے درمیان آنے والے مرحلوں پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں جس تعلیمی ادارے کے ذریعہ پرچوں کا افشا ہوگا اس ادارہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بحث میں شرکت کرتے ہوئے بی جے پی کے سریش کمار نے کہا کہ پچھلے سال پر چوں کا افشا ہونے سے اکثر طلباء کا اعتماد متاثر ہوا ہے اس اعتماد کو واپس لانے کے لئے اقدامات کرنا ضروری ہے۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے جے ڈی ایس ایسی لجسلیچر س پارٹی کے ڈپٹی لیڈر وائی ایس وی دتہ نے کہا کہ ٹریژری میں محفوظ رکھے گئے پرچوں کے افشا ہونے کے لئے چند نجی اسکول ذمہ دار ہیں ۔ اس طرح کے کام میں نجی اداروں نے تعاون کیا تھا۔ اس طرح کی دھاندلیوں میں ملوث نجی تعلیمی اداروں کی منظوری ہی منسوخ کردینا چاہئے ۔ پچھلی مرتبہ پرچے کئی مرتبہ افشا ہونے کے نتیجہ میں امتحان دینے والے طلباء بھی بری طرح متاثر ہوئے ۔ تنویر سیٹھ نے ایوان کو بتایا کہ ترمیمی بل کے مطابق پرچوں کے افشا ہونے میں ملوث افراد کو 5؍ سال سزائے قید دی جائے گی اور پانچ لاکھ روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا اس بل پر تفصیلی بحث و مباحثہ کے بعد اسمبلی میں بل پر منظوری دے دی گئی۔